391335_24492521

مزاح کی تین اقسام

لاہور : یہ مزاح و ظرافت کی خالص اور عمدہ شکل ہے ۔ اس میں کسی قسم کے طنز اور تلخی تک کا شائبہ تک نہیں ہوتا ۔ اس کا مقصد اصلاح نہیں بلکہ نشاط اور جمالیاتی ذوق کی تسکین ہوتا ہے ۔ ابن انشا کی تحریر سے یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں: خالص مزاح ’’سب سے پہلے آٹا لیجیے۔ آٹا آ گیا؟ اب اس میں پانی ڈالیے ۔ اب اسے گوندھیے۔ گندھ گیا؟ شاباش! اب پیڑا بنائیے جس کی جسامت اس پر موقوف ہے کہ آپ لکھنؤ کے رہنے والے ہیں یا بنوں کے ۔

اب کسی ترکیب سے اسے چپٹا اور گول کرکے توے پر ڈال دیجیے ۔ اس کا نام روٹی ہے ۔ اگر یہ کچی رہ جائے تو ٹھیک ورنہ کوئلوں پر ڈال دیجیے تا آنکہ جل جائے ۔ اب اسے اٹھا کر رومال سے ڈھک دیجیے اور نو کر کے ذریعے تنور کی پکی پکائی دو روٹیاں منگوا کر سالن کے ساتھ کھائیے ۔ بڑی مزیدار معلوم ہوگی‘‘ طنزیہ مزاح: ایسا مزاح جو قاری کو تحریر کے آئینہ میں اس کا نقشہ مضحکہ خیز یا غیر فطری حالت میں اس طریقے سے پیش کرے کہ قاری بدحواس نہ ہو بلکہ اس صورت حال سے لطف اٹھاتا رہے ۔ اس طرح کے مزاح میں طنز کا ہلکا سا عنصر شامل ہوتا ہے ۔ لطیف مزاح: کسی بھی بات یا واقعے کے مضحک پہلوؤں کو زندہ دلی اور بذلہ سنجی سے اس طرح بیان کرنا کہ پڑھنے والوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ جائے لطیف مزاح کے زمرے میں آتا ہے ۔ لطیف مزاح جمالیاتی ذوق کی بھی تسکین کرتا ہے ۔

 




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Website designed by BizTorch.com