raaj kapoor

انڈین سینما کے عظیم شو مین راج کپور کی آج برسی

راج کپور کا شمار ہندی سینما کے لیجنڈری اداکاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے فلمساز کی حیثیت سے بھی بالی ووڈ فلم انڈسٹری کو بہترین فلمیں دیں جو کلاسک کا درج رکھتی ہیں۔

ممبئی: (ویب ڈیسک) بھارتی فلم انڈسٹری کے لیجنڈری اداکار راج کپور کی آج برسی ہے۔ انھیں ہندی سینما کے عظیم شو مین کے لقب سے جانا جاتا ہے۔ راج کپور نے اداکاری کے علاوہ فلمسازی اور ہدایتکاری میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ ان کی بنائی ہوئی فلمیں آج بھی کلاسک کا درجہ رکھتی ہیں۔ شاید یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہوں کہ راج کپور کا پورا نام رنبیر راج کپور تھا۔ راج کپور 14 دسمبر 1924ء کو کپور حویلی پشاور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پرتھوی راج کپور کا شمار بھی انڈی سینما کے اولین اور لیجنڈری اداکاروں میں ہوتا تھا۔ دلیپ کمار کے ساتھ انہوں نے فلم مغل اعظم میں کام کیا اور بادشاہ جلال الدین اکبر کا کردار نبھا کر اسے امر کر دیا۔

راج کپور کو ان کی خدمات کے صلے میں متعدد نیشنل فلم فیئر ایوارڈ سمیت لائف ٹائم اچومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ فرانس کے مشہور فلمی میلے کانز میں بھی ان کی فلمیں پیش کی گئیں جنھیں دنیا نے سراہا۔ حکومت ہند نے بھی ان کی گراں قدر خدمات کا صلہ دیتے ہوئے انھیں 1971ء میں پدما بھوشن ایوارڈ سے نوازا اور بعد ازاں 1987ء میں ہندی سینما کے سب سے بڑے ایوارڈ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ کا حقدار بھی ٹھہرایا گیا۔

راج کپور نے 1935ء میں صرف 10 سال کی عمر میں انقلاب نامی فلم کے ذریعے بالی ووڈ میں قدم رکھا اور آئندہ 12 سال تک بغیر رکے کام کرتے رہے تاہم انھیں فلمی دنیا میں پہلا بریک 1947ء میں ریلیز ہونے والی فلم نیل کمل سے ملا۔ اس فلم میں مشہور اداکارہ مدھو بالا ان کے مدمقابل تھیں۔ اس کے ایک سال بعد یعنی 1948ء میں راج کپور نے اپنے ذاتی فلم سٹوڈیو کی بناید رکھی جس کا نام آر کے فلمز رکھا گیا۔ اس وقت راج کپور کی عمر محض 24 سال تھی۔ راج کپور کی ہدایت میں بننے والی پہلی فلم ’آگ‘ تھی جس میں انہوں نے اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔ اس فلم میں ان کی ہیروئن نرگس تھیں۔ ان کی اگلی فلم ’برسات‘ بہت مقبول ہوئی، اس فلم کی ہیروئن بھی لیجنڈری نرگس تھیں۔ فلم برسات کی کامیابی کے بعد راج کپور اور نرگس ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے تاہم راج کپور پہلے سے ہی شادی شدہ تھے۔

راج کپور کی مشہور فلموں میں آوارہ، شری 420، میرا نام جوکر، سنگم، برسات، آگ، جاگتے رہو، جس دیش میں گنگا بہتی ہے، چوری چوری، انداز، نیل کمل، دل ہی تو ہے اور دھرم کرم قابل ذکر ہیں۔ 2 مئی 1988ء کے دن لازوال ہندی فلمیں دینے والے میں اپنی گراں مایہ خدمات کے لئے داد صاحب پھلکے ایوارڈ لینے کیلئے آئے لیکن دمے کے ایک اچانک دورے کے سبب سٹیج پر آ کر اپنا ایوارڈ وصول نہ کر سکے۔ اس سے ٹھیک ایک مہینے بعد 2 جون 1988ء کو وہ دل کا دورہ پڑنے سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

 




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Website designed by BizTorch.com